Posts

آرٹی ۔۔۔’ رگڑو مہم‘ چہ مطلب دارد؟  پتھر وںکو جو بناتے لعل وگوہر و ہ سنیں  ایس احمد پیرزادہ حال میں ریاستی محکمہ تعلیم نے عدالت عالیہ کی ہدایت کے تحت ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا کہ اُن رہبر تعلیم اور جنرل لائن اساتذہ کا اسکرینگ ٹیسٹ لیا جائے گا جنہوں نے ریاست سے باہر کی یونیورسٹیوں اور کالجوں یا پھر اسٹیڈی سنٹروں سے ڈگریاں لی ہیں۔ حکم نامہ کے مطابق اُن اساتذہ کو بھی ٹیسٹ کے زمرے میں لایا جائے گا جنہوں نے فاصلاتی طریقے سے اپنی ڈگریاں حاصل کی ہوں گی۔ اس حکم نامے کی زد میں قریباً چالیس ہزار اساتذہ آجاتے ہیں جنہیں اپنی اہلیت اور قابلیت ثابت کرنے کے لیے ’’امتحانی مرحلے‘‘ سے گزرنا پڑے گا۔ محکمہ تعلیم کے اس فیصلے کے خلاف رہبر تعلیم اساتذہ کی فورم کے علاوہ ٹیچرس فورم نے بھی سخت لب ولہجہ استعمال کرکے حکومت وقت کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کے لیے میدان میں کود نے کی دھمکی دے دی ہے۔ رہبر تعلیم اساتذہ نے دو روزہ تالہ بندہڑتال کے علاوہ سرینگر میں جم کر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اس حکم نامے کو سرکار کی من مانی سے تعبیرکیا اور اِسے اساتذہ کے خلاف ناروا سلوک قرار دیا۔ عادت سے م...
یعقو ب میمن انصاف انگشت بدنداں!۔۔۔۔بے نوائی کی سزا پاتے ہیںکلمہ خواں ایس احمد پیرزادہ 30 ؍جولائی2015 ء کو علی الصباح ناگپور کی ایک جیل میں ممبئی حملوں کے لئے مبینہ طور پر سازش رچانے والے یعقوب میمن کو تختہ ٔدار پر لٹکادیا گیا اور محمد افضل گورو کی طرح ایک مرتبہ پھر ہندوستانی سماج کے’’ اجتماعی ضمیر‘‘ کو مطمئن کرنے کے لئے انصاف کے تقاضوں کوہی نرالا لباس پہنایا گیا۔محمد افضل گورو کی طرح یعقوب میمن کی پھانسی کے حوالے سے بھی ہندوستانی سماج میں تضاد پایا جاتا ہے۔ بیشترسیاسی جماعتوں کے لیڈر اور سماجی کارکن اسے انصاف کا قتل قرار دیتے ہیں لیکن فرقہ پرستانہ سوچ جس سماج کے قلب و ذہن پر حاوی کی گئی ہو، وہاں کا اکثریتی طبقہ اس لئے اطمینان قلب محسوس کررہا ہے کیونکہ تختہ ٔدار پر چڑھنے والا مسلمان تھا۔ گناہ ہو یا نہ ہو، جرم کا ارتکاب کیا ہو یا نہ کیا ہو، تختۂ دار پر لٹکانے کے لئے اور قید خانوں میں سڑانے کے لئے یہ چیز کافی ہوتی ہے کہ بندہ مسلمان ہے۔اس کے برعکس سادھوی پریگیا،کرنل پروہت،سوامی اسیم آنند، دارا سنگھ،بابو بجرنگی،مایا کوڈنانی اور گجرات کے تین ہزار مسلمانوں کے قاتلوں پر ہزار مرت...
اَفسپا ہٹے گا ہی نہیں!  کاغذ کی ناؤ تھی بڑے ہی چاؤ سے ڈوبی  ایس احمد پیرزادہ حال ہی میںریاست جمو ں وکشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے بی جے پی یونٹ ممبئی کی جانب سے ایک تقریب میں شرکت کرنے کے دوران میڈیا نمائندوں سے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’’ریاست جموں وکشمیر میں افسپا کو ہٹانے کے لیے ابھی وقت موزون نہیں ہے، ریاست میں جنگجوؤں کے حملے جاری ہیں اور کولیشن گورنمنٹ ایسی تمام طاقتوں کے ساتھ سختی کے ساتھ نپٹنے کے لیے اپنے ارادوں میںپختہ ہے اور افسپا کے بارے میں حتمی فیصلہ مرکزی سرکار کو لینا ہے۔‘‘نائب وزیر اعلیٰ کا یہ بیان بی جے پی کے الیکشن ایجنڈے کی بھرپور عکاسی کررہا ہے کیونکہ دوران الیکشن بی جے پی نے افسپا کے بارے میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بی جے پی ریاست جموں وکشمیر سے اس قانون کو کسی بھی صورت میں ہٹنے نہیں دے گی۔ البتہ پی ڈی پی نے جس منشور کے تحت الیکشن لڑا ہے اُس میںپارٹی نے واضح طور پر کہا تھا اور پی ڈی پی کے لیڈران اپنی الیکشن مہموں کے دوران بھی اس بات کا بلند بانگ اعلان کرتے تھے کہ اگر پی ڈی پی اقتدار میں آگئی تو افسپا ہٹانا اُس کی اول...
عنادومنافرت ۔۔۔ یہ آگ کب بجھے؟ اپنے ہی ہاتھ موت کا سامان کر گئے ایس احمد پیرزادہ تہذیبوں کے تصادم کے عنوان سے مسلمانوں کے خلاف انتھک جنگ لڑنے والا مغرب گزشتہ ڈیڑھ دہائیوں سے دنیا بھر کی خاک چھان کر بالآخر عراق اور اب افغانستان میںپسپائی اختیار کرکے راہ فرار اختیار کرنے کی سبیلیں ڈھونڈ رہا ہے۔ بظاہر شکستہ خوردہ مسلمانوں کے ساتھ براہ راست جنگ کے نتائج اگر اس قدر بھیانک ظاہر ہوں گے تو پھر اگر ملت اسلامیہ مستحکم پوزیشن کے ساتھ متحدہ ہوکر اپنی صلاحیتوں اور وسائل کا استعمال کرتی تو شاید ہی مغربی طاقتیں اُمت محمدیؐ سے ٹکرانے کی جرأت کرپاتیں۔عراق میں دس سال کی جنگ لڑنے کے باوجود جب امریکہ عراقی لوگوں کی مزاحمتی تحریک کو کچلنے میں ناکام ہوا تو اس ملک کو تباہ و برباد کرکے انکل سال اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ وہاں سے دُم دبا کر بھاگ کھڑا ہوا۔ افغانستان میں آج امریکیوں کی حالت کیا ہے؟ یہ پوری دنیا کی نظروں کے سامنے عیاں و بیاں ہے۔ سپرپاور کہلانے والا امریکہ ا س خستہ حال ملک سے باعزت واپسی کے لیے پر تول رہاہے ، دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہونے کا دعویٰ رکھنے والا ملک آج پاکستان کے سامنے ج...
مخلوط حکومت کے 100 دن نئے ہیں نشتر نئے زخم ہیں میرے جگر پہ  ایس احمد پیرزادہ ریاست جموں وکشمیر میں پی ڈی پی ، بی جے پی مخلوط سرکار کے سو دن مکمل ہونے پر جہاں عام لوگ اس حکومت کی کارکردگی پر تجزیہ کرکے مایوسی کا اظہار کررہے ہیں، وہاں مخلوط حکومت کی اکائیاں ایک دوسرے پر دبی زبان میں ہی سہی طعنے اور فقرے کس کر لوگوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوششوں میں جٹے ہوئے ہیں۔ حکومت سو دن گزرجانے کے بعد ریاستی حکومت کے وزیروں نے ازخود اعتراف کرلیا ہے کہ سرکار کے پاس مالی وسائل ہیں نہ مختلف اسکیموں اور کاموں کے لئے فنڈز دستیاب ہیں۔ایک وزیر نے یہاں تک اعتراف کرلیا کہ تاحال ریاستی سرکار وادیٔ میں کچھ نہیں کرپائی ہے۔جب یہ حکومت بنی تو مخلوط جماعتوں نے اس انداز سے پروپیگنڈاکیا کہ بظاہر نظریاتی طور پر ایک دوسرے سے کوسوں دور ان جماعتوں کا اتحاد اس اعتبار سے اچھا ہے کہ دّلی میں بی جے پی کی حکومت ہے اور ریاست میں بی جے پی کولیشن پارٹنر ہونے سے ریاستی حکومت کو فنڈز دستیاب رہیں گے اور یہ کہ مرکزی حکومت کی بھرپور مدد سے ریاست میں تعمیر و ترقی کے نئے دروازے وا ہوںگے۔ حالانکہ ان ہی کالموں میں اُ...
روہنگیائی مسلمانوں کا المیہ  خامشی یہ سنگ دلی ہے بزدلی یا بے بسی  ایس احمد پیرزادہ برما میں روہنگیا مسلم آبادی پرزمین اپنی تمام وسعتوں کے باوجود تنگ ہورہی ہے ۔ اور اسی طرح عالم اسلام اس وقت جس غم و الم کا شکار ہے شاید ہی تاریخ کا کوئی اور دور ایسا گزرا ہو،جب اس طرح مسلمانانِ عالم ذلت و پستی اور رسوائیوں کا شکار ہوئے ہوں۔ مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں اس وقت کلمہ خوانوں کو بہ حیثیت مجموعی چین و سکون ، آرام وراحت اور احساسِ تحفظ میسر ہو۔ اُمت مسلمہ بے چارگی کے عالم میں عرش اعلیٰ سے ہی آس لگائے بیٹھی ہے ، کیونکہ دنیا والوں نے اس ملت مر حومہ کا جینا حرام کررکھاہے ، دنیا کے کونے کونے میں مسلمانوں کا قافیہ حیات تنگ کیا گیا ہے،نہ کوئی اُن کی رُودادِ غم پر کان دھرتا ہے اور نہ ہی کوئی ان مظلوموں کی فریاد سنتا ہے۔ملت اسلامیہ کے پیرو جوان کٹ مررہے ہیں، خواتین کی عزت و عصمت تار تار ہورہی ہے، معصوم بچوں کے جنازے اُٹھ رہے ہیں، ہر جگہ مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے ، آباد شہر ویران کردئے گئے ہیں، فلک بوس عمارتیں خاکستر کردی گئی ہیں، مسلمانوں ...
پلیٹ گن ۔۔۔ متروک نہ ممنوعہ انساینت کی مانگ ہے یہ آگ بجھائیں  ایس احمد پیرزادہ یہ ایک تلخ ترین تاریخی حقیقت ہے کہ وادیٔ کشمیر میں 2008 ء اور 2010 ء میں زوردار عوامی احتجاج کچلتے ہوئے وردی پوشوں نے مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلا ئیںاور دو سو سے زائد کشمیر ی نوجوانوں کو جاں بحق کر دیا۔ اس دوران سینکڑوں نوجوان گولیاں لگنے سے بری طرح سے مضروب ہوگئے ۔ ان نوخیز کلیوں کو جرم بے گناہی کی پاداش میں ابدی نیند سلادئے جانے کے ردعمل میں عوامی سطح پر غم و غصے کی لہر پیدا ہوگئی ۔ا دھر جہاں ایک جانب فوج نے اس صورت کو’’ ایجی ٹیشنل ٹرئرازم اور گن لیسٹرئرازم ‘‘ جیسی اشتعال انگیز اصطلاحوں سے یادکیا وہاں دوسری جانب2010 ء میں پانچ مہینوں کے مسلسل ہڑتال اور128 نوجوانوں کو جاں بحق کرنے کے بعد ہندوستانی پارلیمانی وفد کی کشمیر آمد کے موقع پر دلّی کے مسند اقتدار پر براجمان اُس وقت کی کانگریسی حکومت نے اعتراف کرلیا کہ عوامی احتجاج سے نمٹنے میں فورسز اہلکاروں سے فاش غلطیاں ہوئی ہیں۔ اس بات کو بھی قبول کیا گیا کہ وردی پوشوں نے حد سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں کم سن نوجوان ابدی نیند سو...