Posts

احتجاج مظلوم کا حق!

احتجاج مظلوم کا حق! ظلم بے ثبات ہے عدل میں حیات ہے ایس احمد پیرزادہ جمہوری دنیا میں احتجاج قوموں کا حق ہوتا ہے۔ احتجاج ہی موجودہ زمانے کا وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعے سے اپنی آواز کو بلند کیا جاسکتا ہے۔ یہ حق انسانیت کو اقوام متحدہ کے چارٹر نے بھی فراہم کیا ہے اور مختلف ممالک کے آئین میں بھی عوام کا یہ حق محفوظ ہے کہ وہ اپنی ناراضگی کا اظہار احتجاج کے ذریعے سے کرسکتے ہیں۔ترقی یافتہ اور مہذب ممالک میں آج بھی اگر چند لوگ ہی سڑکوں پر خاموش احتجاج ہی کرنے نکلیں تو وہاں کی سرکار ہل جاتی ہے۔میڈیا کی پوری کوریج اُن کو دی جاتی ہے۔ اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں اِن چند نفوس کا احتجاج موضوع بحث بن جاتا ہے۔ موجودہ زمانے کی تاریخ میں ایسی بھی مثالیں ہیں کہ عوام کی معمولی ناراضگی کے نتیجے میں حکومتیں گر گئیں۔ غرض آج کے زمانے میںقوموں کے لیے اپنی بات منوانے کے لیے احتجاج کا ہی واحد راستہ رکھا گیا ہے۔ جو ممالک اور اقوام عوام کو اپنے حقوق کی بازیابی اور زیادتیوں کے خلاف احتجاج کرنے سے روکتے ہیں ،طاقت کی زبان سے عوام کی آواز کو دباتے ہیں، ایسے ممالک بھلے ہی جمہوریت کا چوغا زیب تن کرکے دنیا کی ا...
رواں عوامی ایجی ٹیشن.... ہم نے کیا پایا؟ ٭.... ایس احمد پیرزادہ وادی میں کشت و خون ، ظلم وبربریت، جبر و استبداد، مار دھاڑکاسلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ صورتحال دن بدن ابتر ہوتی جارہی ہے۔ پولیس، سی آر پی ایف اور آرمی کے ہاتھوں شہر و دیہات میں جگہ جگہ لوگوں کو ہراساں کرنے کی خبریں روز اخبارات کی زینت بنتی ہیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا چلن ہر سو عام ہے۔ لوگوں کا غم و غصہ ہر اعتبار سے جائز ہے اور المیہ یہ ہے کہ یہاں کی حکومت ایک ہی لہجے میں یہ بھی تسلیم کرتی ہے کہ ظلم و زیادتیاں ہوئیں ہیں ، پھر اُسی سانس میں یہ بھی قبول کرتی ہے کہ وردی پوش زیادہ سے زیادہ صبر کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔ احتجاجی نوجوانوں پر حکام اور وردی پوشوں کی جانب سے یہ الزام لگایا جاتارہا ہے کہ وہ پولیس اور سی آر پی ایف پر حملہ آور ہوجاتے ہیں پھر مجبوراً وردی پوشوں کو طاقت کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ یہ پروپیگنڈا سرینگر سے دلی تک حکومتی لوگوں ، فورسز ایجنسیوں اور مخصوص ایجنڈا رکھنے والے دلی کے میڈیا نے اس قدر عام کردیا ہے کہ اب ہندوستانی شہریوں کی اکثریت کے یہاں یہ تصور پیدا ہوگیا ہے کہ کشمیری قوم ”دہشت گرد“ ہے اور اُن کے سات...
رواں عوامی ایجی ٹیشن.... ہم نے کیا پایا؟ ٭.... ایس احمد پیرزادہ وادی میں کشت و خون ، ظلم وبربریت، جبر و استبداد، مار دھاڑکاسلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ صورتحال دن بدن ابتر ہوتی جارہی ہے۔ پولیس، سی آر پی ایف اور آرمی کے ہاتھوں شہر و دیہات میں جگہ جگہ لوگوں کو ہراساں کرنے کی خبریں روز اخبارات کی زینت بنتی ہیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا چلن ہر سو عام ہے۔ لوگوں کا غم و غصہ ہر اعتبار سے جائز ہے اور المیہ یہ ہے کہ یہاں کی حکومت ایک ہی لہجے میں یہ بھی تسلیم کرتی ہے کہ ظلم و زیادتیاں ہوئیں ہیں ، پھر اُسی سانس میں یہ بھی قبول کرتی ہے کہ وردی پوش زیادہ سے زیادہ صبر کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔ احتجاجی نوجوانوں پر حکام اور وردی پوشوں کی جانب سے یہ الزام لگایا جاتارہا ہے کہ وہ پولیس اور سی آر پی ایف پر حملہ آور ہوجاتے ہیں پھر مجبوراً وردی پوشوں کو طاقت کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ یہ پروپیگنڈا سرینگر سے دلی تک حکومتی لوگوں ، فورسز ایجنسیوں اور مخصوص ایجنڈا رکھنے والے دلی کے میڈیا نے اس قدر عام کردیا ہے کہ اب ہندوستانی شہریوں کی اکثریت کے یہاں یہ تصور پیدا ہوگیا ہے کہ کشمیری قوم ”دہشت گرد“ ہے اور اُن کے سات...
عید کا کیا مقصد....؟ ٭....ایس احمد پیرزادہ رمضان المبارک کے عظیم ایام ایمان و احتساب کے ساتھ گزارنے کے بعد اب ہم عیدکی خوشیوں میں شامل ہونے کی تیاریوں میں مصروف عمل ہیں۔ رمضان المبارک کے دوران جنہوں نے روزے رکھے، فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل کا بھی اہتمام کیا، زکوٰة اور صدقہ الفطر ادا کیا، دوران ماہ انفاق کا کھلے دل سے مظاہر ہ کیا، قیام الیل کرکے اللہ کے حضور اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کی، اللہ کی کتاب قرآن مجید کی تلاوت کی، قرآن سماعت کیا اور اس کی آیات پر غور و فکر کیا،ایسے بندوں کا حق بنتا ہے کہ وہ عبادات کے اِن عظیم مراحل سے کامیابی کے ساتھ گزر جانے کے بعد اپنی خوشیوں اور مسرتوں کا اظہار کریں۔پھر جب عید کی رات آتی ہے تو آسمان پر اس رات کو روزہ داروں کے لیے ” لیلةالجائزہ “انعام کی رات قرار دیا جاتا ہے۔ دیگر ادیان کے بجائے مسلمانوں کی خوشیاں بھی حدود و قیود میں اور ایک الگ ہی نرالے انداز سے منائی جاتی ہیں۔ یہاں فسق و فجور نہیں ہوتا ہے، یہاں شراب نوشی کی محفلیں نہیں ہوتی ہیں، یہاں بے حیائی اور بے شرمی نہیں ہوتی،خوشیاں منانے کے دوران یہاں اختلاقیات کا جنازہ نہیں نکلتا ہے، یہاں خوشیاں من...

دلی پبلک اسکول سرینگر....

دلی پبلک اسکول سرینگر....  مذہبی معاملات میں مداخلت ناقابل قبول ٭.... ایس احمد پیرزادہ ۷۱جون ۶۱۰۲ئ کو ”دلی پبلک اسکول“ کے طلباءو طالبات نے احتجاجی دھرنادے کر کلاسوں کا مکمل بیکاٹ کرکے ریاست جموں وکشمیر کی پوری آبادی کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔ احتجاج، ہڑتال اور دہرنوں کی تاریخ سے وادی کشمیر پُر ہے۔ یہاں آئے روز ظلم و زیادتیوں کے خلاف ہڑتالیں ہوتی رہتی ہیں، یہاں مختلف سرکاری محکموں سے وابستہ ملازمین کا اپنی جائز مانگوںکو لے کر روز احتجاج ہوتا رہتا ہے۔ یہاں بجلی، پانی اور غذائی اجناس کی عدم دستیابی کے خلاف ہر دن کہیں نہ کہیں خواتین سڑکوں پر نکل پر دھرنا دے کر پورا ٹریفک جام کرتے رہتے ہیں۔ لیکن ۷۱جون کودلی پبلک اسکول کے طلباءو طالبات کا احتجاجی دھرنااس اعتبار سے منفرد تھا کہ یہ احتجاج مسلم اکثریتی ریاست جموں وکشمیر میں پہلی مرتبہ کسی اسلامی شعائر پر پابندی اور مذہبی معاملات میں مداخلت کے حوالے سے تھا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اسکول میں یہ مسئلہ اُس وقت پیدا ہوا جب وہاں کی انتظامیہ نے ایک مسلم باپردہ استانی کو ابایا اورنوکری میں سے ایک کا انتخاب کرنے کاOption دیا ہے۔ اُمت کی...
سینک کالونیاں ۔۔۔ حقیقت کیا ہے ؟ خدا را وطن کو بچائیں بچائیں ایس احمد پیرزادہ  سینک کالونی کے مجوزہ حکومتی منصوبے کا مسئلہ روزبروز سلجھنے کے بجائے الجھتا ہی جارہا ہے۔ ایک جانب مختلف غیر سرکاری تنظیمیں ،مزاحمتی جماعتیں ، حتیٰ کہ اپوزیشن نیشنل کانفرنس ریاستی حکومت پر بیک زبان الزام عائد کررہی ہیں کہ وہ ریاستی مفادات کا سودا کرکے یہاں کی زمینیں نیلام کررہی ہیں اور اسرائیلی طرز پر جموں وکشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی راہ پر گامزن ہے، دوسری جانب ریاستی سرکاری متضاد بیانات کے ذریعے سے اس بات سے انکار کررہی ہے کہ سرینگر میںکوئی سینک کالونی بننے والی ہے۔ حالانکہ کولیشن سرکاری میں شامل بی جے پی کے متعدد لیڈران کھلے عام اپنے بیانات میں کہہ رہے کہ سرینگر میںسابق فوجیوں کے لیے کالونی تعمیر ہوکر رہے گی۔ ۶جون کو ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اسمبلی کے اجلاس میں اپنی ایک تقریر میں واضح کیا کہ سینک کالونیاں کہیں تعمیر نہیں ہورہی ہیں۔ انہوں نے حزبِ اختلاف اور میڈیا کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ بعض حلقے ریاست کے امن و امان کو درہم برہم کرنا چاہتے ہیں ۔ محبوبہ مفتی نے غصے میں آکر ...

پاور پروجیکٹوں کی واپسی.... دلی کا صاف انکار

پاور پروجیکٹوں کی واپسی.... دلی کا صاف انکار ٭.... ایس احمد پیرزادہ ہندوستان کے مرکزی وزیر بجلی پیوش گوئیل نے ۰۲مئی کو ایک ویڈیو پریس کانفرنس کے دوران جس میں وہ اپنی پاور منسٹری کی کامیابیوں کی تشہیر کررہے تھے ، ایک سوال کے جواب میںکہا کہ”ریاست جموں وکشمیر کو این ایچ پی سی کے تحت قائم پاور پروجیکٹوں کے مالکانہ حقوق لوٹانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ “انہوں نے ان پروجیکٹوں سے حاصل شدہ بجلی میں سے ریاست کا حصہ 12 فیصد سے25 فیصد کرنے سے بھی انکار کرتے ہوئے کہا کہ این ایچ پی سی نے تمام ریاستوں کے لیے کل پیداوار میں سے12 فیصدی کا جو حصہ معیار مقررکر رکھا ہے کسی ایک ریاست کے لیے اس میں تبدیلی نہیں لائی جاسکتی ہے۔ وزیرموصوف نے ریاست میں پاور پروجیکٹوں سے حاصل شدہ منافع میں سے بھی ریاست کو حصہ دینے سے انکار کردیا۔جب وزیر بجلی سے پوچھا گیا کہ ریاست جموں وکشمیرہندوستان بھر میں ہائیڈرل پاور پروجیکٹوں سے حاصل ہونے والی بجلی کا تقریباً 44فیصدی حصہ پیدا کرتی ہے اور اس کے باوجود ریاستی باشندوں کو بجلی دستیاب نہیں ہے۔ تو انہوں نے درجواب کہا کہ” ریاستی عوام بجلی کا بل ادا نہیں کرتے ہیں اور یہ...