Posts

کشمیر کاز اَ ٹل ہے

کشمیر کاز اَ ٹل ہے! ا پنی قربانی کے بل کامیابی ڈھونڈتے ایس احمد پیرزادہ ہندوستان کے مسلم و غیر مسلم دانشوروں سے جب بھی بات کرتے ہیں توکشمیر، مسئلہ کشمیر اور اہل کشمیرکے بارے میں ا ±ن کی باتیں قریب قریب ایک ہی جیسی ہوتی ہیں۔ کشمیر یوں سے بھرپور ہمدردی جتاکر ا ±ن کی زبان سے جو باتیں سننے کو ملتی ہیں وہ یہ ہوتی ہیں : ”کشمیری لوگ بڑے ہی ذہین ہوتے ہیں لیکن اس قوم کی جذباتیت اِنہیں اکیسویں صدی میں ہورہی تعمیر و ترقی کا حصہ بننے نہیں دیتی۔“ ایک معروف غیر مسلم صحافی نے حال ہی میں مجھ سے کہاہے کہ:” آپ کی جدوجہد برحق ہے، کشمیر یوں کے ساتھ حکومت ہند نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا ہے اور نہ ہی کبھی کرنے کا ارادہ ہے۔ آپ لوگوں کو اس حقیقت کا اعتراف کرلینا چاہیے کہ ہندوستان کشمیریوں کو کبھی بھی استصواب رائے کا موقع فراہم نہیں کرے گا ، آپ کے لیے بہتر یہ ہے کہ اپنی جدوجہد کو ترک کرکے ہندوستان کی ترقی میں شامل ہوجائیں۔تمہاری آنے والی نسلوں کو فائدہ نصیب ہوگا۔“ایک اور صاحب قلم ہندوستانی دانشورنے کہا کہ:” ہندوستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اقتصادی طاقت کے طور پر ا ±بھر رہا ہے، دنیا کی تیسری بڑی فوجی طا...

زائرہ وسیم کنٹراورسی کشمیر میں

بات کا بتنگڑہ بنا نا ہم سے سیکھئے ایس احمد پیرزادہ  حالیہ دنوں ریاست جموں وکشمیر میں ایک نئی کنٹراورسی کواُس وقت جنم دینے کی کوشش کی گئی جب سرینگر سے تعلق رکھنے والی ایک کم سن لڑکی جو بالی ووڈ کی کسی فلم میں اداکارہ ہے، نے ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے ملاقات کرنے کے بعد قوم سے معافی طلب کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے لیے ایسے حالات پیدا کیے گئے ہیں کہ اُنہیں نہ چاہتے ہوئے بھی ریاستی وزیر اعلیٰ کے ساتھ ملاقات کرنی پڑی۔اپنے فیس بُک پوسٹ میں اس لڑکی نے کہا کہ ’’ جن لوگوں کو میری حالیہ ملاقات کے ذریعے سے تکلیف پہنچی ہو ، میں اُن کے جذبات کو جانتی ہوں اور اس بات کا بھی ادراک رکھتی ہوں کہ گزشتہ چھ ماہ میں یہاں کیا کچھ ہوا ہے، میں اُن سے معافی مانگتی ہوں۔‘‘فیس بُک پر اس لڑکی نے پوسٹ کیا کیا، پوری ہندوستانی میڈیا نے آسمان سر پر اُٹھا لیا۔ کشمیری قوم کو شدت پسند، تنگ نظر، دہشت گرد او رنہ جانے کن کن القاب سے بے تکلفی سے نوازا گیا۔ بحث و مباحثہ شروع کیا گیا کہ وادیٔ کشمیر میںنوجوان نسل کو اپنی صلاحیتوں کالوہا منوانے نہیں دیا جارہا ہے۔ اسلام پسندوں اور حریت پسندوں کو موردِ الزام ٹھہرایا ...

عثمان مجید کشمیریوں کاقاتل

اسمبلی ۔۔۔ ضد ِانقلاب کا باب کھلا ! حقائق سے پردے سر کتے ر ہیں گے ایس احمد پیرزادہ  ریاست جموں وکشمیر کے سرمائی راج دھانی جموں میں اسمبلی کے رواں اجلاس میں پی ڈی پی رکن اسمبلی بٹہ مالو نور محمد شیخ نے ایم ایل اے بانڈی پورہ عثمان مجید کو اخوان دور کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہوئے اُن پر الزام عائد کیا کہ اس نے سونا واری اور بانڈی پورہ میں اخوان دور میں درجنوں معصوموں کا خون بہایا ہے اور وہ صدر کوٹ میں ایک ہی کنبے کے ۸؍افراد کی ہلاکتوں میں بھی ملوث رہے ہیں۔ سابق ہندنواز بندوق بردار و موجودہ ایم ایل اے بانڈی پورہ عثمان مجید، نور محمد کے ان الزامات پر آگ بگولہ ہوگئے۔ انہوں نے اسملی فلور پر ایم ایل اے بٹہ مالو پر حملہ کرنے کی ناکام کوشش کرنے کے علاوہ ممبران اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے یہ تک کہہ دیا کہ :’’مجھے زبان کھولنے پر مجبور مت کرو،اگر ہم(MLAs)یہاں بات کررہے ہیں تو یہ ہم ککہ پرے کی وجہ سے کررہے ہیں۔‘‘ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ’’میں جانتا ہوں کہ نوے کی دہائی میں کس طرح مفتی محمد سعید نے ککہ پرے سے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں ، آپ آگے بڑھو‘‘ ۔ عثمان مجید نے ایم ایل اے بٹہ مالو سے مع...

وراب شر نارتھیوں کی اقامتی اسناد!

اوراب شر نارتھیوں کی اقامتی اسناد! امتحاں لے لے کے ہم کو آزما تا آسماں ایس احمد پیرزادہ  کشمیریوں کی حالیہ ایجی ٹیشن میں ایک ٹھہراؤ آیا ہی چاہتا ہے کہ بی جے پی نے اپنے زیر کنٹرول کولیشن سرکار سے سنگھ پریوار کے دیر ینہ خاکوں میں رنگ بھرنے کا عمل شروع کرلیا ۔ اس بارجموں میں رہائش پذیرمغر بی پاکستان سے آئے شرنارتھیوں کو خصوصی اقامتی اسناد فراہم کرکے بقول بی جے پی اُنہیں ریاست کا مستقل باشندہ بنانے کا پہلا قدم اٹھوایا گیا اور پی ڈی پی اس اقدام کو سیاسی پشت پناہی دے کر اپنے دھرم پال رہی ہے بلکہ کشمیر سپیسفک زعفرانی ایجنڈ کے حوالے شاہ سے زیادہ وفادار بن رہی ہے۔ریاستی سرکارکے ترجمان نعیم اختر سرکاری سطح پر اس اقدام کا بھرپور دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شرنارتھیوں کواقامتی اسناد جاری کرنے کا واحد مقصد یہ ہے کہ اُنہیں مرکزی سرکار کی نوکریاں حاصل کرنے میں آسانی ہوجائے اور حکومت کا ان شرنارتھیوں کو ریاست کا مستقل باشندہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ حالانکہ بی جے پی کے لیڈران کھلے عام یہ سچ اگلتے پھررہے ہیں کہ مغربی پاکستان سے آئے ہوئے اِن لاکھوں شرنارتھیوں کو ریا...

اسیرانِ زندان

اسیرانِ زندان ہیروں کو سنگ کردیا حالات کے کرب نے ایس احمد پیرزادہ  ۶۵؍برس عمر کا محمد لطیف خان ضلع راجوری کے ایک دور دراز علاقے کا رہنا والا شخص ہے۔ زندگی کے آخری پڑھاؤ پر بھی ہشاش بشاش اور مطمئن نظر آرہا ہے۔ محمد لطیف کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، دس کنال اراضی اور ایک مکان بھی اُن کی کل ملکیت ہے، مال مویشی کو بہکوں میں لے جاکر یہ گھرانہ مقدور بھر کمائی کر کے اپناگزارہ چلاتا، گھر کے دن جوں توںکٹ رہے تھے۔ محمد لطیف اپنے بچوں کی پڑھائی کے تئیں لاپرواہ نہیں تھے۔ اُن کا بڑا بیٹا لکھنو یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کررہا تھا، ایک بیٹا اور تین بیٹیاں گجرات کے دینی مدارس میں قرآن حفظ کررہے تھے کہ ۲۰۰۶ء میں اس گھر پر آزمائشوں کا سلسلہ اُس وقت شروع ہوگیا جب محمد لطیف خان کے بڑے بیٹے محمد اسلم خان کو دلی پولیس کی خصوصی سیل نے لکھنو سے گرفتار کرلیا۔ اُنہیں ’’دہشت گردی‘‘ کے متعدد واقعات میں ملوث ٹھہراکرتہاڑ جیل میں بند کردیا گیا۔یہاں دلی میں اُن کے کیس کی شنوائی کچھوے کی چال چلتی رہی، تاریخ پہ تاریخ میں برسوں بیت گئے۔ محمد لطیف جس نے کبھی ریاست سے باہر قدم رکھا ہی نہیں تھ...

کشمیر کاز کی جیت ہوئی!

امتحانات2016ء کشمیر کاز کی جیت ہوئی! ایس احمد پیرزادہ رواں بارہویں اور دسویں جماعت کے امتحانات میں اُمیدواروں کی بالترتیب 95 ؍اور98 ؍فیصد شرکت سے سرکاری حلقے بغلیں بجا رہے ہیں۔بی جی پی حکومت میں شامل ایچ آر ڈی منسٹر پرکاش جاویڈکرنے تو حد ہی کردی، انہوں نے امتحانات میں طلبہ و طالبات کی شرکت کو کشمیریوں کی تحریک پر نریندر مودی کی سب سے بڑی سرجیکل اسٹرائیک قرار دیا ہے۔ دلی سے سرینگر تک میڈیا چینلیں اور ادارے اس بات کی خوب تشہر کررہے ہیں کہ طلباء و طالبات نے امتحانات میں شرکت کرکے مزاحمتی قیادت کی کال کا عملاً انکار کردیا۔ حالانکہ حریت قیادت نے نہ ہی کبھی امتحانات منعقد کرانے کی مخالفت کی تھی اور نہ ہی اُنہوں نے اپنے کسی بھی مزاحمتی کلینڈر میں طلبہ و طالبات کو امتحانات میں شریک ہونے سے باز رہنے کے لیے کہا تھا۔ امتحانات منعقد کرانے کا فیصلہ حکومت نے کیا اور اُس کی مخالفت میں طلباء از خود سڑکوں پرنکل آئے۔ ریاست کے اطراف و اکناف میں طلباء و طالبات نے سینکڑوں کی تعداد میں سڑکوں پر آکر حکومت کے امتحانات منعقد کرانے کے فیصلے کی شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے اس فیصلے کو طلبہ مخالف اقدام قر...

اسکولوں کو نذر آتش کرنے میں کس کا فائدہ؟

اسکولوں کو نذر آتش کرنے میں کس کا فائدہ؟ ٭.... ایس احمد پیرزادہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج اور ادیگر سرکاری ایجنسیاں کشمیریوں کی جدوجہد برائے حق خود ارادیت کو بدنام کرنے کے لیے طرح طرح کی سازشیں کررہے ہیں۔رواں عوامی تحریک کو بدنام کرنے کے لیے گزشتہ چند ہفتوں سے وادی کے مختلف اضلاع میں اسکولی عمارتوں کو نذر آتش کرنے کے پُر اسرار واقعات پیش آرہے ہیں۔ اسکولی عمارتوں کو خاکستر کرنے کے ان پے درپے واقعات سے کشمیری سماج میں بے چینی اورتشویش کی لہر پھیل جانا لازمی امر ہے اور ہر ذی حس فرد اِن افسوسناک وارداتوں کو لے کر فکر مند دکھائی دے رہا ہے۔گزشتہ چار ماہ سے جاری عوامی ایجی ٹیشن کے دوران نذر آتش کیے جانے والے اسکولوں کی تعداد تادم تحریر۰۳تک پہنچ چکی ہے۔کولگام، پلوامہ، اسلام آباد، بارہمولہ اور بڈگام ضلع میں نذر آتش کیے جانے اسکولوں کو کون لوگ خاکستر کررہے ہیں اس بارے تاحال کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے البتہ آثار و قرآئن سے واضح ہوجاتاکہ جو لوگ اپنے حقیر سیاسی مقاصد اور مفادات کی خاطر قومی کاز تک کو بھی داو ¿ پر لگا سکتے ہیں وہ ا سکول کیا بستیوں کی بستیاں راکھ کی ڈھیر میں تبدیل کرکے اپنے گھناو...