Posts

مسلک کے نام پرمنافرت ؟ ایس احمد پیرزادہ

مسلک کے نام پرمنافرت ؟ وحدت ِ ملت کو پارہ پارہ کرنا کافری ٭…ایس احمد پیرزادہ  تہذیب اور شرافت کے دائرے میںاختلافِ رائے( یا تعمیری تنقید اور علمی محکمہ) کو اْمت کے لیے باعث رحمت قرار دیا گیا ہے ، لیکن جب یہی اختلاف ِ رائے ضد م ضدا، بغض ، حسد یاگروہی تعصب میں بدل جائے تو پھر یہ اْمت کے جسد واحد میںرستے ہوئے ایک ناسور کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔آج ایک چھوٹے سے استثنیٰ کو چھوڑ کر بہ حیثیت اْمت کا یہی حال احوال ہے۔علمائے دین کے درمیان جزئیات میں پائے جارہے اختلاف ِ رائے کورحمت سمجھتے ہوئے اس کے ذریعے اجتہاد کی راہیں کھولنے کے بجائے ہم نے اپنی صفوں اور طبائع میں ضد اور ہٹ دھرمی کو جگہ دی ہوئی ہے، اس کایہ نتیجہ برآمد ہورہا ہے کہ عوامی سطح پر مختلف مسالک ومکاتب ِ فکر کے لوگ کہیںایک دوسرے سے بدظن ہیں ، کہیں ان میں طعن وتشنیع کی یک طرفہ یا دوطرفہ جنگ جاری ہے ، کہیں یہ باہم دگر خون کے پیاسے بنے ہوئے ہیں۔ یہ حضرات ایک دوسرے کی عزت ریزی اور پگڑیاں اچھالنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ نفرت اور عداوت کی اس حد تک آبیاری کی جارہی ہے کہ اب دین کی بنیادوں سے نابلد لوگ بھی زبان کے چٹ...

راج ناتھ سنگھ کے پانچ سی۔۔۔۔۔ایس احمد پیرزادہ

Image
راجناتھ سنگھ کے 5 سی، ہر نزاع کاخاتمہ ہے تصفیہ - ایس احمد پیرزادہ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اپنے حالیہ چارروزہ دورہ ٔریاست کے تیسرے دن سرینگر میں اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ’’ مسئلہ کشمیر کے حل کی بنیاد 5 سی (C) پر مشتمل ہے۔ 5 سی کی نئی اصطلاح کی وضاحت کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہاکہCompassion (ہمدردی)، Communication (روابط)، Co-existence (بقائے باہم)، Building Confidence(اعتماد سازی) اورConsistency (استحکام)ایسے نکات ہیں جن میں مسئلہ کشمیر کا حل پنہاں ہے۔حال کے دنوں میں سرخیوں میں رہنے والا مسئلہ دفعہ35A کے حوالے سے اُنہوں نے سرینگر کی پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’مرکزی حکومت، کشمیری عوام کے جذبات کے برعکس کوئی بھی کام نہیں کرے گی، بلکہ اُن کے احساسات کو عزت وتوقیر دی جائے گی۔‘‘ جب کہ اس معاملے کے حوالے سے اگلے ہی دن جموں میں اخباری نمائندوں سے کہا ’’یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، اس معاملے پر مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے، آگے جو ہوگا اس کی آپ کو جان کاری ملتی رہے گی۔‘‘یوں سرینگر کی پریس کانفرنس کے دوران الفاظ کے اُلٹ پھیر کچھ اس انداز سے کیے گئے کہ سننے والے سمج...

روہنگیا۔۔۔۔آدم خوروں کے نشانے پر

Image
روہنگیا…… آدم خوروں کی نذر - ایس احمد پیرزادہ اس وقت جب یہ سطور لکھی جارہی ہیں چشم فلک برما میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے نئے نئے مناظر دیکھ رہی ہوگی اور دنیا کو پتہ چل رہا ہوگا کہ کس طرح بے یار ویار مددگار روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام رخائن کے بدھ بھکشو کر کے گوتم بدھ کی اہنساوادی تعلیمات کا مذاق اڑاتے پھر رہے ہیں۔ یہ سارا خونی کھیل صرف بدھ بھکشوؤں کا کیا دھرا نہیں بلکہ مبصرین کہتے ہیں کہ اس کی پشت پر در پردہ ا مر یکہ ہے جو چاہتا ہے کہ گیس اور تیل کے ذخائر سے مالا مال میانمار میں قیام ِ امن کے نام پر عراق کی مانند مداخلت کر کے خطے میں اپنے پیر جمائے تاکہ تیل اور گیس پر ہاتھ صاف کر تے ہوئے چین اور شمالی کوریا پر اپنی گہری نظر رکھ سکے۔ اسرائیل اس خونی سازش کو عسکری محاذ پر کامیاب بنانے کے لیے میانمار کو اسلحہ اور فوجی تربیت سے لیس کر رہاہے جب کہ بھارت اور بنگلہ دیش امر یکی خاکوں میں رنگ بھر نے کے لیے واشنگٹن کو خوشی خوشی اپنے شانے پیش کر رہے ہیں۔ برما کی مسلم اقلیت کو تہ تیغ کر نا اور بچے ہوئے لوگوں میں بھگڈر مچاکر انہیں ملک بدر ہونے پر مجبور کرنا بدھ بھکشوؤں کا یک نکاتی ...

طلاق ثلاثہ پر بھارتی عدالت کا امتناع

طلاق ثلاثہ پر بھارتی عدالت کا امتناع صرف مسلم خاتون ہی نشانے پر کیوں ہے؟ ٭…ایس احمد پیرزادہ گزشتہ ہفتے 22 ؍اگست کوبھارتی سپریم کورٹ نے ایک ہی نشست میں تین طلاق یعنی طلاق ثلاثہ پر چھ ماہ کی پابندی عائد کرتے ہوئے حکومت ہند کو ہدایات دی ہیں کہ وہ اس دوران پارلیمنٹ میںطلاق ثلاثہ جسے طلاق بدعت بھی کہتے ہیں، کے حوالے سے قانون سازی کرے۔ بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے اس طرح کے فیصلے کی پہلے ہی سے توقع کی جارہی تھی کیونکہ بی جے پی سرکار بننے کے بعد گزشتہ برس جب طلاق بدعت کے حوالے سے بھارت بھر میں بحث شروع کروائی گئی تو اُس وقت بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے طلاق ثلاثہ کو مسلم خواتین کے ساتھ سراسر زیادتی قرار دیا تھا۔ نیز دلی میں بی جے پی کے برسراقتدار آجانے کے بعدسے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انصاف فراہم کرنے والی عدالتوں کا وطیرہ بھی بدل چکا ہے۔ اس لیے پہلے سے ہی اندازہ تھا کہ سپریم کورٹ میں فیصلے کی نوعیت کیا ہوسکتی ہے۔ اب جب کہ سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ صادر کردیا ہے تو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اولین فرصت میں ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپنی ایک ٹویٹ میں اس فیصلے کو ہندوستان کی ...

این آئی ائے : کشمیریوں کی سیاسی آواز کو ختم کیا جارہا ہے٭…

این آئی ائے : کشمیریوں کی سیاسی آواز کو ختم کیا جارہا ہے٭… بھارت کے قومی تحقیقاتی ادارہ’’ این آئی اے‘‘ نے گزشتہ ہفتے حریت کانفرنس کے سات لیڈروں کو گرفتار کرکے راتوں رات دلی پہنچایاہے ، جہاں این آئی اے کی ایک خصوصی عدالت میں پیش کرکے پندرہ دن کے لیے اُن کا ریمانڈ حاصل کرلیا گیا۔ سات لیڈروں کی گرفتاری کے اگلے ہی روز ایک اور سینئر حریت لیڈر شبیر احمد شاہ کو بھی اپنی رہائش گاہ سے گرفتار کرلیا گیااور اُنہیں بھی این آئی ائے اہلکار دلی لے گئے۔ گرفتار شدہ لیڈران کے خلاف مبینہ طور پر یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ وہ بیرون ممالک سے حوالہ چینلوں کے ذریعے فنڈس حاصل کرتے ہیں ۔ بھارتی قومی تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق مذکورہ لیڈران اور اُن کی تنظیمیں اس رقم کو یہاں سنگ بازوں اور عسکریت پسندوں میں تقسیم کرکے حالات کو بگاڑ رہے ہیں۔شبیر احمد شاہ کے خلاف ۲۰۰۵ء؁ کا ایک کیس کھولا گیا جس میں اُنہیں مبینہ طور پرحوالہ چینلوں سے رقم وصول کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ۔اخباری اطلاعات کے مطابق این آئی اے گرفتاریوں کے اس سلسلے کو پھیلانا چاہتے ہیں اور یہ بھی باتیں ہورہی ہیں کہ متعلقہ ایجنسی اتحاد ثلاثہ کے تین ا...

دفعہ 370 تحریک آزادی کی دفاعی لائن ہے

دفعہ 370 تحریک آزادی کی دفاعی لائن ہے ٭… ایس احمد پیرزادہ ریاست جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ مسز محبوبہ مفتی نے حال ہی میں حکومت ہند کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جموں وکشمیر کے خصوصی درجے یعنی دفعہ370 کو تبدیل کیا گیایا اس کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی توریاست میں ’’ترنگے‘‘ کی حفاظت کوئی نہیں کرے گا۔ اُنہو ں نے کہا کہ ایسے اقدام سے’’ علاحدگی پسند‘‘ نہیں بلکہ بھارت کو تسلیم کرنے والی قوتیں ( ہند نواز جماعتیں) کمزور ہوں گی۔نئی دہلی میں ’’بیورو آف ریسرچ آن انڈسٹری اینڈ اکنامک فنڈمنٹلز‘‘ نامی ایک غیر سرکاری ادارے کے زیر اہتمام دو روزہ مباحثے بعنوانUnderstanding Kashmir  میں حصہ لیتے ہوئے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے اپنے ان خیالات کا اظہار کیا۔واضح رہے آر ایس ایس کی حمایت یافتہ ایک غیر سرکاری تنظیم نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں ایک عرضی دائرکرکے مطالبہ کیا ہے کہ آرٹیکل 35A کو ختم کیا جائے۔ آرٹیکل 35A کو 1954 میں اُس وقت کے صدر ہند ڈاکٹر راجندر پرساد کے ذریعے جاری کردہ ایک ریفرنس کے تحت لاگو کیا گیا ہے۔دفعہ 370 کے تحت ریاست جموں وکشمیر کو خصوصی درجہ حاصل ہے اورآرٹیکل 35A میں ...

کشمیر کو بھارتیوں کو آباد کرنے کی جانب پہلا قدم

 کشمیر کو بھارتیوں کو آباد کرنے کی جانب پہلا قدم ٭… ایس احمد پیرزادہ بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے آرٹیکل 35A کی منسوخی کے لیے عرضی قبول کرنے اورگورنمنٹ آف انڈیا کواس ضمن میں اپنا جواب دخل کرنے کی نوٹس روانہ کیے جانے نے ریاست جموں وکشمیر کے عوامی و سیاسی گلیاروں میں ہل چل پیدا کردی ہے۔ متحدہ مزاحمتی قیادت نے ریاستی کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ کسی بھی طرح کی چھڑ چھاڑ کے خطرناک نتائج سامنے آنے کی بات کہی اور ایسے کسی بھی اقدام کے خلاف بھر پور ایجی ٹیشن چھیڑنے کا عندیا بھی دیا ہے جبکہ ہند نواز جماعتوں کے کان بھی اس مسئلے کو لے کر کھڑے ہوگئے۔ نیشنل کانفرنس کے سرپرست و سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے اپنی رہائش گاہ پر تمام اپوزیشن جماعتوں کی ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی جبکہ اس میٹنگ کے اگلے ہی دن وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے سیاسی حریف فاروق عبداللہ کے ساتھ ایک گھنٹے تک ملاقات کی۔ محبوبہ مفتی نے کانگریس کے ریاستی صدر کے ساتھ بھی ملاقات کی جبکہ چند اسمبلی ممبران نے بھی اُن کے ساتھ ملاقات کرکے اُنہیں پیدا شدہ صورتحال کے نتیجے میں اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔ مزاحمتی قیادت نے بھی حسب تواقع ...