روہنگیائی مسلمانوں کا المیہ خامشی یہ سنگ دلی ہے بزدلی یا بے بسی ایس احمد پیرزادہ برما میں روہنگیا مسلم آبادی پرزمین اپنی تمام وسعتوں کے باوجود تنگ ہورہی ہے ۔ اور اسی طرح عالم اسلام اس وقت جس غم و الم کا شکار ہے شاید ہی تاریخ کا کوئی اور دور ایسا گزرا ہو،جب اس طرح مسلمانانِ عالم ذلت و پستی اور رسوائیوں کا شکار ہوئے ہوں۔ مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں اس وقت کلمہ خوانوں کو بہ حیثیت مجموعی چین و سکون ، آرام وراحت اور احساسِ تحفظ میسر ہو۔ اُمت مسلمہ بے چارگی کے عالم میں عرش اعلیٰ سے ہی آس لگائے بیٹھی ہے ، کیونکہ دنیا والوں نے اس ملت مر حومہ کا جینا حرام کررکھاہے ، دنیا کے کونے کونے میں مسلمانوں کا قافیہ حیات تنگ کیا گیا ہے،نہ کوئی اُن کی رُودادِ غم پر کان دھرتا ہے اور نہ ہی کوئی ان مظلوموں کی فریاد سنتا ہے۔ملت اسلامیہ کے پیرو جوان کٹ مررہے ہیں، خواتین کی عزت و عصمت تار تار ہورہی ہے، معصوم بچوں کے جنازے اُٹھ رہے ہیں، ہر جگہ مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے ، آباد شہر ویران کردئے گئے ہیں، فلک بوس عمارتیں خاکستر کردی گئی ہیں، مسلمانوں ...
Popular posts from this blog
مختلف الخیال حکومت کا منشور کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا ایس احمدپیرزادہ ریاست جموں و کشمیر میں چند دن قبل بالآخر تاریخ نے ایک انوکھی کروٹ لی اورپی ڈی پی و بی جے پی کی مخلوط حکومت ایک کانوں سنی نہیں بلکہ آنکھوں دیکھی حقیقت بن گئی ۔ اگر اس حقیقت کو ہم مسلم کانفرنس کا نیشنل کانفرنس میں بدلنے سے مشابہت دیں تو شاید غلط نہ ہوگا۔ نئی حکومت نے اب باگ ڈور سنبھال لی ہے اور ایک مشترکہ ایجنڈا ( common minimum programme) کی دستاویزمرتب کرکے اس پر کام کرنے پر دونوں جماعتیں رضا مند ہوگئی ہیں۔ ا س شاخ نازک پر استوار دوطرفہ رضامندی کی یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ اگر وزیراعلیٰ مفتی سعید اپنی زبانی پاکستان یا آزدای نوازوں کے بارے میں کوئی معمولی لب کشائی کر نے کی جسارت کر تے ہیں یا مسرت عالم جیسے کسی اسیر زندان کو رہا کر نے کا اقدام کرتے ہیں تاکہ عوام میں یہ تاثر جائے کہ ان کی زیر سرکردگی میں مخلوط حکومت کا کسی سے بیر ہے نہ کسی کوخواہ مخواہ قید وبند میں رکھنے کی روادار تو پارلیمنٹ سے لے کر وزیراعظم کر نریندر مودی تک سٹپٹا جاتے ہیں ۔ بھاجپا صاف لفظوں میں اسے اپنے پارٹنر کی ج...
کشــمــیــر :حالات خاک سدھریں گے
کشــمــیــر :حالات خاک سدھریں گے طاقت کے نشانے پہ ہے جذبات کا گلشن ۔ 2016 ء اور 2017ء کے خونین برس گزر جانے کے بعد 2018 ء کے لیے یہ اُمیدیں باندھی جارہی تھیں کہ اس سال کشمیر میں کشت و خون کاسلسلہ تھم جائے گا۔انسانی جانوں کے زیاں کا سلسلہ رُک جائے، لیکن گزشتہ برسوں کی طرح اس بار بھی پہلے ہی تین ماہ کے دوران اہالیان کشمیر کی تمام تر خوش اُمیدیوں پرپانی پھر گیا ہے۔ ریاست میں موجود دس لاکھوں نفری پر مشتمل وردی پوش افسپا جیسے قوانین سے حاصل شدہ غیر معمولی اختیارات کی آڑ میں کشمیریوں کی نوجوان نسل کا بے تحاشہ لہو بہاتے جا رہے ہیں اور انسانی حقوق کی ان بدترین خلاف ورزیوں کو جائز جتلانے کے لیے ملوث ایجنسیاں دم ٹھونک کر ناقابل قبول وغیر معقول جوا ز بھی پیش کرتی ہیں۔ حد یہ کہ عوام کے خلاف اس کھلی جنگ کے خلاف وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کے بھائی اور وزیر سیاحت مفتی تصدق نے بغیر کسی لاگ لپٹی کے اعتراف کر دیا ہے کہ پی ڈی پی اور بی جے پی کا سیاسی گھٹ جوڑ جرائم پیشوں کا باہمی اتحاد لگتا ہے۔ ان کی زبانی اپنی ہی حکومت پر تنقید کی بوچھاڑپر اگرچہ تجزیہ کار ورطہ ٔحیرت میں ہیں مگر ناقابل تردید سچ یہ ہ...
Comments
Post a Comment